بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

51

الذاريات

Adh-Dhariyat

The Winnowing Winds • 60 Ayahs

Meccan
32
1

وَٱلذَّـٰرِيَٰتِ ذَرۡوٗا

قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں

2

فَٱلۡحَٰمِلَٰتِ وِقۡرٗا

پھر بوجھ اٹھانے والیاں

3

فَٱلۡجَٰرِيَٰتِ يُسۡرٗا

پھر نرم چلنے والیاں

4

فَٱلۡمُقَسِّمَٰتِ أَمۡرًا

پھر حکم سے بانٹنے والیاں

5

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٞ

بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضروری سچ ہے،

6

وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٞ

اور بیشک انصاف ضرور ہونا

7

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡحُبُكِ

آرائش والے آسمان کی قسم

8

إِنَّكُمۡ لَفِي قَوۡلٖ مُّخۡتَلِفٖ

تم مختلف بات میں ہو

9

يُؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ أُفِكَ

اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو

10

قُتِلَ ٱلۡخَرَّـٰصُونَ

مارے جایں دل سے تراشنے والے

11

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي غَمۡرَةٖ سَاهُونَ

جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں

12

يَسۡـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوۡمُ ٱلدِّينِ

پوچھتے ہیں انصاف کا دن کب ہوگا

13

يَوۡمَ هُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ يُفۡتَنُونَ

اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے

14

ذُوقُواْ فِتۡنَتَكُمۡ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ

اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا، یہ ہے وہ جس کی تمہیں جلدی تھی

15

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ

بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں

16

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُحۡسِنِينَ

اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے،

17

كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ

وہ رات میں کم سویا کرتے

18

وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ

اور پچھلی رات استغفار کرتے

19

وَفِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ

اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا

20

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ ءَايَٰتٞ لِّلۡمُوقِنِينَ

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو

21

وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ

اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،

22

وَفِي ٱلسَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوعَدُونَ

اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے

23

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِنَّهُۥ لَحَقّٞ مِّثۡلَ مَآ أَنَّكُمۡ تَنطِقُونَ

تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو،

24

هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ

اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی

25

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ

جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا، سلام ناشناسا لوگ ہیں

26

فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجۡلٖ سَمِينٖ

پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا

27

فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيۡهِمۡ قَالَ أَلَا تَأۡكُلُونَ

پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں،

28

فَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ

تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،

29

فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِي صَرَّةٖ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِيمٞ

اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ

30

قَالُواْ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡعَلِيمُ

انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،

31

۞قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ

ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئے

32

قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ

بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

33

لِنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن طِينٖ

کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،

34

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِينَ

جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں

35

فَأَخۡرَجۡنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے،

36

فَمَا وَجَدۡنَا فِيهَا غَيۡرَ بَيۡتٖ مِّنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ

تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا

37

وَتَرَكۡنَا فِيهَآ ءَايَةٗ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ

اور ہم نے اس میں نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں

38

وَفِي مُوسَىٰٓ إِذۡ أَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ

اور موسیٰ میں جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا

39

فَتَوَلَّىٰ بِرُكۡنِهِۦ وَقَالَ سَٰحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٞ

تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،

40

فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٞ

تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا

41

وَفِي عَادٍ إِذۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلرِّيحَ ٱلۡعَقِيمَ

اور عاد میں جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی

42

مَا تَذَرُ مِن شَيۡءٍ أَتَتۡ عَلَيۡهِ إِلَّا جَعَلَتۡهُ كَٱلرَّمِيمِ

جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح چھوڑتی

43

وَفِي ثَمُودَ إِذۡ قِيلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُواْ حَتَّىٰ حِينٖ

اور ثمود میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو

44

فَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَهُمۡ يَنظُرُونَ

تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا

45

فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مِن قِيَامٖ وَمَا كَانُواْ مُنتَصِرِينَ

تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،

46

وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ

اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے،

47

وَٱلسَّمَآءَ بَنَيۡنَٰهَا بِأَيۡيْدٖ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں

48

وَٱلۡأَرۡضَ فَرَشۡنَٰهَا فَنِعۡمَ ٱلۡمَٰهِدُونَ

اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،

49

وَمِن كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ

اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو

50

فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ

تو اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

51

وَلَا تَجۡعَلُواْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ

اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

52

كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُواْ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ

یونہی جب ان سے اگلوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو یہی بولے کہ جادوگر ہے یا دیوانہ،

53

أَتَوَاصَوۡاْ بِهِۦۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ

کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں

54

فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٖ

تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں

55

وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے،

56

وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ

اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں

57

مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ

میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں

58

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ

بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے

59

فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذَنُوبٗا مِّثۡلَ ذَنُوبِ أَصۡحَٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُونِ

تو بیشک ان ظالموں کے لیے عذاب کی ایک باری ہے جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی تو مجھ سے جلدی نہ کریں

60

فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن يَوۡمِهِمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ

تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں

About Surah Adh-Dhariyat

Surah Adh-Dhariyat (الذاريات) is the 51st chapter of the Holy Quran. It contains 60 verses and is a Meccan Surah.

Read with Urdu translation (Kanz ul Iman) and English translation (Sahih International). Listen to audio recitation by multiple world-renowned reciters including Mishary Alafasy, Sudais, Shuraim, Husary, and more.

About Surah Adh-Dhariyat

Adh-Dhariyat (The Winnowing Winds) is a Meccan surah of 60 verses that begins with oaths by the winds and goes on to the guests of Ibrahim, the fate of earlier peoples, signs in creation, and the purpose of human and jinn existence.

Number

51st surah

Verses

60

Revelation

Meccan

Meaning

The Winnowing Winds

Purpose of creationGuests of IbrahimSigns in the earth and in ourselvesAllah as Provider

Why read it

It contains the Quran's most direct statement of why we were created, in the same surah that reminds us that Allah is the Provider.

Key point

And I did not create the jinn and mankind except to worship Me (51:56)

Continue reading

Historical Context

A Meccan surah that begins with oaths by winds and the things that follow them, and affirms that what is promised is true and the judgment is certain. It describes the guests of Ibrahim and the news of Ishaq, the fate of the people of Lut, Pharaoh, 'Ad, Thamud and Nuh, signs in the earth and in ourselves, and the statement of why jinn and humans were created.

Main Themes

The oaths

Verses 1-4 swear by those that scatter, those that carry a load, those that glide and those that distribute by command. Reports from Ali and Ibn Abbas understand them as the winds, the clouds, the ships and the angels, and the surah's message does not depend on the identification.

The guests of Ibrahim

Verses 24-30 tell of Ibrahim's honoured guests, his hospitality, and the news of a knowledgeable son, and his wife's reaction.

Earlier peoples

Verses 31-46 recount the angels' mission to the people of Lut, and the fates of Pharaoh, 'Ad, Thamud and the people of Nuh.

Signs and provision

Verses 20-23 say that in the earth are signs for the certain, and in yourselves, and that in the heaven is your provision and what you are promised.

The purpose of creation

Verses 56-58 say that Allah did not create jinn and mankind except to worship Him, that He does not desire provision from them, and that He is the Provider, the Possessor of strength, the Firm.

Important Verses

51:20-21

Signs in the earth and in yourselves

And on the earth are signs for the certain [in faith]. And in yourselves. Then will you not see?

51:50

So flee to Allah

So flee to Allah. Indeed, I am to you from Him a clear warner.

51:56

The purpose of creation

And I did not create the jinn and mankind except to worship Me.

Hadith & Popular Descriptions

We include authenticity grading for each narration below — not every widely-repeated description of a surah comes from an equally strong source.

Frequently Asked Questions about Surah Adh-Dhariyat

What is Surah Adh-Dhariyat about?

Adh-Dhariyat (The Winnowing Winds) is a Meccan surah of 60 verses that begins with oaths by the winds and goes on to the guests of Ibrahim, the fate of earlier peoples, signs in creation, and the purpose of human and jinn existence.

How many verses are in Surah Adh-Dhariyat?

Surah Adh-Dhariyat contains 60 verses (The Winnowing Winds). It is the 51st surah of the Holy Quran.

Is Surah Adh-Dhariyat Makki or Madani?

Surah Adh-Dhariyat is a Makki surah — it was revealed in Makkah before the Hijrah.

What are the benefits of reading Surah Adh-Dhariyat?

It contains the Quran's most direct statement of why we were created, in the same surah that reminds us that Allah is the Provider.

Where can I read Surah Adh-Dhariyat with Urdu translation?

You can read Surah Adh-Dhariyat above with the full Arabic text, Urdu translation (Kanz ul Iman), and English translation (Sahih International), plus audio recitation.

What does "to worship Me" include?

Commentators explain worship as broader than ritual acts: it includes obedience, trust, gratitude and living in awareness of Allah. Some, including Ibn Abbas as reported in tafsir, explained it as knowing Him.

What is meant by "We are expanding it" in verse 47?

The verse says that Allah constructed the heaven with strength and that He is its expander. Classical commentators understood it as a reference to His power and the vastness of the sky, and some modern writers connect it to ideas about the expanding universe. We do not attach scientific claims to the wording.